سہیل عباس: پاکستانی پینلٹی کارنر سپیشلسٹ کا انڈیا کے خلاف وہ تاریخی گول جب گیند نہ کیپر کو نظر آئی نہ امپائر کو

سہیل عباس نے اس سے قبل بھی متعدد اہم گول کیے اور اس کے بعد بھی لیکن یہ گول سب سے یادگار رہا

آٹھ اکتوبر 2004 کو پاکستان اور انڈیا کی ہاکی ٹیمیں امرتسر کے گرو نانک دیو یونیورسٹی سٹیڈیم میں آٹھ میچوں کی ہاکی ٹیسٹ سیریز کے ساتویں میچ میں مدمقابل تھیں۔

پاکستانی ٹیم ایک گول سے یہ میچ ہار رہی تھی کہ اچانک اسے پینلٹی کارنر ملتا ہے۔ تمام تر نظریں سہیل عباس پر مرکوز ہو جاتی ہیں جو پینلٹی کارنر پر گول کرنے کے لیے شہرت رکھتے تھے اور وہ گول کر کے یہ مقابلہ برابر کر دیتے ہیں۔

سہیل عباس نے اس سے قبل بھی متعدد اہم گول کیے تھے اور اس کے بعد بھی کیے لیکن یہ بین الاقوامی ہاکی میں سہیل عباس کا 268 واں اور سب سے یادگار گول تھا۔ کیونکہ یہ گول کر کے انھوں نے ہالینڈ کے شہرہ آفاق کھلاڑی پال لٹجنز کے267 گول کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا تھا، جو کہ 22 سال قائم رہا تھا۔

سہیل عباس نے نہ صرف پال لٹجنز کا سب سے زیادہ گول کا ریکارڈ توڑا بلکہ ان سے بہت آگے نکلتے ہوئے اپنے بین الاقوامی کریئر کا اختتام 348 گولوں پر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے