آٹزم، سپیچ ڈیلے: اگر آپ کا بچہ تین سال کی عمر میں بھی نہ بولے تو کیا کرنا چاہیے؟

’اکثر والدین یہ کہتے ہیں کہ اُن کے بڑا بچہ بھی بہت عرصے تک بول نہیں سکا تھا، اس لیے کوئی مسئلہ نہیں یہ بچہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بولنے لگے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ہر بچہ مختلف ہوتا ہے اور اگر آپ کا بچہ دو سال کی عمر میں الفاظ نہیں ادا کر سکتا یا تین سال کی عمر میں ایک مکمل جملہ نہیں بول سکتا ہو، تو معالج سے رجوع کریں۔‘

ندا زاہد ایک سپیچ پیتھالوجسٹ اور آٹزم سپیشلسٹ ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس شعبے میں اس لیے آئیں کیونکہ اُن کے اپنے بیٹے میں بھی ’سپیچ ڈیلے‘ بچوں میں دیر سے بولنے کا مسئلہ تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ جب وہ مختلف سپیچ تھراپسٹس کے پاس گئیں تو اُن کی تسلی نہیں ہوئی اور پھر انھوں نے خود ہی اس شعبے میں آنے کی ٹھان لی اور اب وہ اس مسئلے کا شکار بچوں کو سپیچ تھراپی فراہم کرتی ہیں۔

’ایک ماں ہونے کے ناطے میں یہ سمجھ سکتی ہوں کہ ایک ماں پر کیا گزرتی ہے جب اُن کا بروقت الفاظ ادا نہ کر سکے یہ بول نہ سکے۔‘

جہاں آرا (فرضی نام) ایک ایسے بچے کی والدہ ہیں جو بولنا شروع کرنے کی عمومی عمر میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اُس وقت کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں، جب مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اُس کے بچے میں کوئی مسئلہ ہے تو ایسا لگا کہ ’میں ہار گئی ہوں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے